سخت مزاجی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تند خوئی، تیز مزاجی۔ "حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ باوجود تصلب اور سخت مزاجی کے ہنس پڑے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات شبلی، ٤:٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سخت' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مزاج' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩١٤ء سے "شبلی، مقالات شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تند خوئی، تیز مزاجی۔ "حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ باوجود تصلب اور سخت مزاجی کے ہنس پڑے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات شبلی، ٤:٥ )

جنس: مؤنث